طلب خصومت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ فقہ ]  وہ دعوے جو از روئے قانون ہو، مقدمہ جو کوئی مستحق شفع دائر کرے۔ "کہا امام محمد نے کہ ایک مہینے تک اگر طلب خصومت نہ کرے تو اس کا شفعہ باطل ہو جاوے گا۔"      ( ١٩٦٧ء، نورالہدایہ، ٤١:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طلب' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'خصومت' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٧ء کو "نورالہدایہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ فقہ ]  وہ دعوے جو از روئے قانون ہو، مقدمہ جو کوئی مستحق شفع دائر کرے۔ "کہا امام محمد نے کہ ایک مہینے تک اگر طلب خصومت نہ کرے تو اس کا شفعہ باطل ہو جاوے گا۔"      ( ١٩٦٧ء، نورالہدایہ، ٤١:٤ )

جنس: مؤنث